نئی دہلی ،08؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بی جے پی کے مینی فیسٹوکو جھوٹا بتایا ہے۔انہوں نے اسے لے کر پیر کو ایک ٹویٹ کیااور لکھا کہ مودی سر، آپ نے 2014 میں دہلی والوں کو مکمل ریاست کا وعدہ کیا تھا۔مگرآپ نے نہیں کیا۔اب آپ نے اپنے مینی فیسٹو میں سے ہی ہٹا دیا؟ یہ تو سراسر دہلی والوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔اس کا مطلب آپ اپنے مینی فیسٹو میں جھوٹ بولتے ہو۔تو پھر آپ کے باقی وعدوں پر عوام کس طرح یقین کرے؟ ایک اور ٹویٹ میں اروند کیجریوال نے بی جے پی کے مینی فیسٹو کو جملوں کی کتاب بتایا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ 2014 میں جو جملے مینی فیسٹو کے طور پر عوام کے سامنے رکھے گئے تھے۔آپ نے 2014 میں دہلی والوں کو مکمل ریاست کا وعدہ کیا تھا۔مگر آپ نے نہیں کیا۔ابھی آپ نے اپنے مین فیسٹو سے ہی ہٹا دیا؟ یہ تو سراسر دہلی والوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔غور طلب ہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب اروند کیجریوال نے پی ایم مودی یا مرکزی حکومت پر حملہ بولا ہو۔اس سے پہلے اروند کیجریوال نے اپنی پارٹی کے اندرونی سروے کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ 56 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ پلوامہ حملے اورہند۔ پاک کشیدگی کو لے کر بی جے پی کو اس کے طرز عمل کی وجہ سے انتخابات میں ہار کا منہ دیکھنا پڑے گا ۔ اس پرجوابی حملہ کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا تھا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ کیجریوال ملک کے فوجیوں کی جانباز کارروائی کو نفع نقصان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔کیجریوال نے کہا تھا کہ ’آپ‘ نے ایک سروے کرایا تھا جس میں انکشاف کیا ہے کہ جس طرح سے بی جے پی، ہندوستان اور پاکستان کے تصادم سے نمٹ رہی ہے اس کا لوگوں پر منفی اثر پڑا ہے۔بعد میں انہوں نے ٹویٹ کیا کہ 56 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ بی جے پی کے طرز عمل کی وجہ سے انتخابات ہارے گی۔ ایک اور واقعہ میں اروند کیجریوال نے قومی دارالحکومت کو مکمل ریاست کے درجے کو لے کر دہلی بی جے پی صدر منوج تیواری کے رخ کی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ووٹ مانگنے کے لئے آنے پر لوگوں کو ان کے گھروں سے باہر نکال دینا چاہئے۔یہاں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیجریوال نے کہا تھا کہ تیواری لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ قومی دارالحکومت کو مکمل ریاست کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔انہوں نے کہا تھا کہ جب وہ ووٹ مانگنے کے لئے آئیں تو انہیں اپنے گھروں سے باہر نکال دو کیونکہ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ قومی دارالحکومت کو مکمل ریاست کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔